نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ طالبان خواتین کو انسان نہیں سمجھتے، افغان حکومت کی پالیسی اسلام کی حقیقی روح کےمنافی ہے۔ عالمی برادری طالبان کو کٹہرے میں لائے۔
لڑکیوں کی تعلیم کےفروغ کیلئے اسلام آباد میں جاری دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ افغانستان میں خواتین کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندیاں ہیں ۔ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ عالمی برادری طالبان کو کٹہرے میں لائے۔ افغان لڑکیوں کومستقبل کے فیصلے کاحق ہونا چاہیئں۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت کو خواتین کے خلاف تفریق کا ذمہ دار قرار دیا جائے، اپنی حکومتوں پر زور دیں کہ وہ طالبان پر دباؤ ڈالیں، افغانستان کے مسائل کا حل ملٹری فورس نہیں ، سیاسی مذاکرات میں ہے، افغانستان میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ سیاسی راستہ ہے، مسلم اسکالرز کا مشترکہ موقف طالبان کو امتیازی سلوک سے روک سکتا ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے اسرائیلی سفاکیت کی بھی مذمت کی کہا غزہ میں اسرائیل نے پورا تعلیمی نظام ہی تباہ کردیا ۔ فلسطین کے بچوں نے زندگی اور مستقبل کھو دیا۔ اسرائیل نے تمام یونیورسٹیوں اور90 فیصد اسکولوں پر بمباری کی، غزہ میں اسرائیل کی عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر آواز بلند کرتی رہوں گی۔ بمباری میں خاندان مارا جائے تو ایک فلسطینی بچی اپنا مستقبل کہاں تلاش کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنا سفر پاکستان سے شروع کیا، میرا دل ہمیشہ پاکستان میں رہتا ہے، پاکستان میں ایک کروڑ لڑکیاں اسکول نہیں جاسکتیں، ہر پاکستانی لڑکی کو تعلیم تک رسائی کا حق ہونا چاہیے، بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد میری زندگی کا مقصد ہے۔






















