امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔ ایران کے ساتھ بات چیت کا دوسرا دور منگل کو اسلام آباد میں ہوگا۔ ہوسکتا ہے پاکستان جاؤں لیکن ابھی اس معاملے میں جلدی نہیں۔
ایک پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جو کل شام تک وہاں ہوں گے۔ ہم ایران کو ایک منصفانہ اور قابلِ قبول پیشکش دے رہے ہیں، امید کرتے ہیں وہ ہماری تجاویز قبول کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ہم تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دیں گے، اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے گا، اب وقت آ گیا ہے ایران کی لڑائی ختم کی جائے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ڈیل نہ ہوئی تو وہ کام کروں گا جو 47 سال میں کسی صدر نے نہیں کیا، اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کیا جو عجیب بات ہے، امریکا کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہورہا ہے، یہ سب ایرانی پاسداران انقلاب کی وجہ سے ہورہا ہے، ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے ہرمز پہلے ہی بند ہے، بندرگاہ بند ہونے سے ایران کو 500 ملین کا نقصان ہورہا ہے۔ ایران کی کلنگ مشین کے خاتمے کا وقت اب آگیا ہے۔
قبل ازیں اے بی سی نیوز سے ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، ہمیں یقین ہے ہم ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں، ایران کے ساتھ معاہدہ کسی نہ کسی طریقے سے، دوستانہ یا مشکل طریقے سے ہوگا۔
جے ڈی وینس اس بار مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے
نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور منگل کو اسلام آباد میں ہوگا، اسٹیو وٹکوف اور جیراڈ کشنر اسلام آباد مذاکرات میں شامل ہوں گے، جے ڈی وینس نے پہلے مذاکرات کی قیادت کی تھی، اس بار شریک نہیں ہوں گے۔





















