نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیاہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان ایران کی جانب سے مثبت رد عمل نہ آنے پر موخر کر دیا گیا ۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق مثبت رد عمل آنے پر نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان سے متعلق فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔
نیویارک ٹائمز کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ جے ڈی وینس کی روانگی منگل کی صبح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے لیے طے تھی، جہاں بدھ کے روز مذاکرات دوبارہ شروع ہونا تھے، اسی دن امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی ختم ہونے والی ہے۔
ایک عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے جواب نہ ملنے کی صورت میں سفارتی عمل فی الحال معطل ہو گیا ہے، تاہم دورہ منسوخ نہیں کیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کے ساتھ یہ دورہ کسی بھی وقت دوبارہ شیڈول کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام اس بات کے واضح اشارے کے منتظر ہیں کہ ایران کے مذاکرات کاروں کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔
ایران کو صدر ٹرمپ کے حالیہ جارحانہ اور اشتعال انگیز بیانات پر تشویش ہے ، ایران کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی اور امریکی اقدامات دوطرفہ جنگ بندی کی نفی کرتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ مذاکرات کیلئے پاکستان جانے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا،امریکہ کی جانب سے متضاد پیغامات اور اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے جنگ کا آغاز کیا اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی،ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے،ایران ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتا رہا ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ایرانی وفدکی اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کی تصدیق کا انتظارہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ثالث کے طور پر مذاکرات کیلئے ایرانی حکام سے رابطےمیں ہے، ایران کا جنگ بندی کے خاتمے سے قبل ایران کی مذاکرات میں شرکت اہم ہے،پاکستان ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے رضامند کرنے پر مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں ایک دشمن کے بجائے متعدد طاقتوں کا سامنا ہے،ماضی میں ہم ایک متعین دشمن کا سامنا کرتے تھے،مستقبل میں عوام کومشکل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،کچھ مسائل ایسے ہوں گے جو حکومت اکیلے حل نہیں کر سکے گی،عوام کو مشکل حالات میں حکومت کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ہمیشہ خطرات نظر آتے ہیں،ایران کا موقف بالکل درست اور دلیل کے ساتھ ہے،ایران امریکا مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں،ممکنہ مذاکرات میں صورتحال 10 بار مکمل طور پر بدل سکتی ہے،اگر ایران اور امریکا میں ڈیل ہوتی ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔





















