حکومت نے ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان کر دیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے موجودہ حالات کے پیش نظر مشکل فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرو ل اور ڈیزل کی قیمت میں 55 ، 55 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن بنایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافے کے بعد فی لیٹر پیٹرول کی نئی قیمت 321.17 روپے جبکہ فی لیٹر ڈیزل کی نئی قیمت 335.86 روپے ہو گی ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں ہو جائے گا ۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں، ہمیں معلوم نہیں کہ اس کرائسز نے کتنی دیر چلنا ہے ، وزیراعظم کے مسلسل دھیان کی وجہ سے ہم نے چند ہفتوں میں اپنے ذخائر کو مستحکم کر لیا تھا، اس لیئے کوئی بحران نہیں ہے، ہم سب کو بحیثیت قوم بڑی ذمہ داری سے چلنے کی کوشش کرنی چاہیے، جن لوگوں نے ناجائز منافع خوری کرنے کی کوشش کی ہے اور پیٹرول پمپس بند کیئے ، اس پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیا ہے ، چیف سیکریٹری کو کارروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے سے آتاہے جس میں بندش آئی ہے تو آج ہمارے پی این ایس سی کے جہاز فجیرا پورٹ کی طرف راستے میں ہے ،آرامکو نے کہاہے کہ اگر ہم بڑا جہاز فراہم کرتے ہیں تو اسے ہمارے سمندر میں لا کر کھڑا کر دیں گے ، جس سے ہمیں تیل کی مسلسل فراہمی ہو سکے گی ، اس سے قبل تیل 78 ڈالر فی بیرل تھا، ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی، آج اس میں بڑا اضافہ ہو چکاہے ، چھ تاریخ کو پیٹرول 106 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل جبکہ ڈیزل 150 ڈالر کے قریب آ چکاہے ، اس کے باعث قیمت میں اضافے کا مشکل فیصلہ کیاہے ۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر حملہ ہوا اور خطے میں جنگ کی صورتحال ہے ، پچھلے 48 گھنٹے میں ترکیہ اور آذربائیجان بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، 50 سے 70 فیصد مختلف پراڈکٹس میں اضافہ ہو چکاہے ، وزیراعظم اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لے رہے ہیں، آج وزیراعظم نے خود میٹنگز کیں ، دنیا کے حالا ت کا جائزہ لیا گیا اور پھر انہوں نے میری سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر توانائی اور وزیر خزانہ بھی شامل ہیں ، دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کی گئی ، جس کا مقصد یہ تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جتنا بھی ممکن ہو کم اضافہ کیا جا ئے ، اس میں دیکھنا ضروری تھا کہ عام شہریوں پر بوجھ نہ آئے ۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ میری دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے درجنوں کالز ہوئیں ، ان کے ساتھ رابطے میں ہیں، پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ اپنے ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کشیدگی ختم کی جائے ، اس میں کتنا وقت لگے ، یہ اللہ ہی جانتاہے ، ہماری کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف مختلف وزراء اعظم اور صدور سے متعدد بار بات کر چکے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مسلح افواج کے حوالے سے دوسرے ممالک سے رابطے میں ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اس مشکل سے نکالے ۔


















