القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکی عوام کے نام لکھا گیا 2002ء کا خط ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا
گزشتہ روز ٹک ٹاک نے ’امریکہ کو لکھے گئے خط‘ کے بارے میں ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اپنے سرچ فنکشن سے ’لیٹر ٹو امریکا‘کا ہیش ٹیگ ہٹا دیا تھا۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق ٹک ٹاک سے ہٹائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اسے دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا ہے، کچھ سوشل میڈیا صارفین نے کہا ہے کہ القاعدہ کے بانی کی دستاویز مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازعات میں امریکا کی شمولیت کے بارے میں ایک متبادل نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔
“A letter to America” by Bin Laden since it has now been taken down on the guardian after 22 yrs pic.twitter.com/tuApM9s2BQ
— Lily (@LilySundea59511) November 16, 2023
پورے ہفتے کے دوران ٹک ٹاک صارفین بن لادن کے خط کا لنک شیئر کرتے رہے جو 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے تقریباً ایک سال بعد لکھا گیا تھا۔
دی گارڈین نے یہ خط شائع کیے تھے تاہم برطانوی اخبار نے بدھ کو اسے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا تھا۔
20 سال پرانے خط کے چرچے اس ہفتے اسرائیل اور حماس جنگ پر بحث کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پھیل چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں اسرائیل کیلیے امریکی حمایت پر تنقید کی گئی تھی اور امریکیوں پر فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی مظالم کی مالی معاونت کا الزام لگایا گیا تھا۔
اسامہ بن لادن مئی 2011ء میں پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خصوصی آپریشنز یونٹ کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
ٹک ٹاک نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس خط کو فروغ دینے والا مواد واضح طور پر دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی حمایت کرنے سے متعلق ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
“ A letter to America “ pic.twitter.com/uSTVnEbTL5
— Lauren M (@wildpuppy88) November 16, 2023
انہوں نے مزید کہا کہ یہ رپورٹس غلط ہیں کہ یہ پلیٹ فارم پر ٹرینڈ کر رہا تھا،
جمعرات کو ٹک ٹاک کے اعلان کے بعد ’لیٹر ٹو امریکا‘ کی سرچ کا کوئی رزلٹ ظاہر نہیں ہوا جبکہ ایک نوٹس ظاہر ہوا جس میں کہا گیا کہ یہ جملہ ہمارے رہنماء خطوط کی خلاف ورزی کرنیوالے مواد سے تعلق رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان اینڈریو بیٹس نے بھی چینی ایپ پر کڑی تنقید کی۔ ترجمان نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نفرت انگیز، برائی اور یہود مخالف جھوٹ پھیلانے کا کوئی جواز نہیں، جو القاعدہ کے رہنماء نے امریکی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملے کے بعد جاری کیا تھا۔
دی گارڈین نے نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ اس خط کو مکمل سیاق و سباق کے بغیر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہا ہے۔
ٹک ٹاک نے کہا کہ اس کا تجویز کردہ الگورتھم کسی خاص مواد کو صارفین تک نہیں پہنچاتا اور یہ کہ کمپنی نے 7 اکتوبر سے اب تک لاکھوں ویڈیوز کو غلط معلومات اور تشدد کو فروغ دینے کیخلاف پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر ہٹایا ہے۔






















