آئی ایم ایف نے خبردار کیاہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے پاکستان سمیت عالمی معیشت پر گہرے اثرات ہوں گے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنیسی نے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پاکستان سمیت عالمی معیشت کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھائیس فروری کو شروع ہونے والے تنازع نے توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور مالیاتی حالات کو شدید متاثر کیا ہے جس کے باعث خطے کی معاشی ترقی سست پڑنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہے جبکہ ترسیلاتِ زر میں ممکنہ کمی اور سخت مالیاتی حالات جیسے خطرات بھی درپیش ہیں۔ ماہر بنیسی کے مطابق پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام تاحال درست سمت میں گامزن ہے تاہم معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کیلئے بہتر تیاری ناگزیر ہے۔
آئی ایم ایف نمائندے نے معاشی استحکام کیلئے محتاط مالیاتی پالیسی اور سخت مانیٹری نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرض پروگرام کے تحت اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔ انہوں نے اپریل دوہزارچھبیس کی علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے عمومی سبسڈیز کے بجائے ہدفی اور عارضی اقدامات اپنانا ہوں گے۔





















