ایک شہر ، دو نوجوان، تین کہانیاں۔۔
پہلانوجوان۔۔ تولیہ میں لپٹا، منہ چھپاتا ہوا، مغلظا ت بکتا، بے نام ،بگڑا امیر زادہ
دوسرا نوجوان۔۔ستارے کی مانندچمکتا، مسکراتا،سینہ تانے کھڑا"کرسر" کا سیلف میڈ ارب پتی، صالح آصف
بقول تجزیہ کار، کالم نگار ومیزبان جناب سہیل وڑائچ ۔۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟نہیں سہیل صاحب یہ کھلا تضاد نہیں۔۔!سوشل سائنسٹس کی تھیوری کے مطابق انسانوں کی ذہنی،علمی، فکری، شعوری ترقی اور کامیابی میں اسکے ماحول کا بہت بڑا رول ہے،اسکے گھر کا ماحول، اسکے معاشرے کا ماحول ، اسکی درسگاہ کا ماحول۔۔
نہیں معلوم اول الذکرتولیے میں لپٹا نوجوان کس درسگاہ، سکول ، کالج ، یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے۔لیکن اس کی جسمانی برہنگی، اسکی ذہنی پراگندگی اسکی پرورش، اسکی تربیت اسکے گھر کے ماحول کا پتا بتا رہی ہے، اور اسکا ثبوت ہے مبینہ طور پر اسکا باپ ۔۔وہ جس طرح سے پولیس والے کو دھکا دیکر اپنے بیٹے کو صاف بچا کر فرار ہورہا ہے ، اسکی پرورش، تربیت کا منظرنامہ کسی فلمی سین کی طرح صاف دکھائی د ے رہا ہے ۔
لیکن افسو س اس بات کا بھی ہے ریاست کے باوردی ملازم کو جس طرح سے دھکا دیا او راس نے آگے چوں تک نہ کی، چاہیے تو یہ تھا وہ اسکی وردی کی طرف بڑھنے والا ہاتھ قانون کی گرفت میں لے لیتا لیکن قانون کا سار ا زور ، کمزور ، لاچار، نادار پر چلتا ہے ۔منہ زور، رسہ گیر خود قانون بن جاتے ہیں۔
صالح آصف ، کراچی کی کچرا کنڈی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، گٹر ابلتی آبادیوں، دھول اڑتی بستیوں سے نکل کر میسا چوسٹس پہنچ کر اپنا لوہا منوانے والا اقبال کی شاعری کا وہ استعارہ ہے جس کے بارے شاعر مشرق نے فرمایا ۔۔محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند
اسی طرح "تولیے والوں" زادوں کے بارے میں بھی ہمارے انقلابی شاعر حبیب جالب نے فرمایا تھا
جب کمینے عروج پاتے ہیں /اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔۔تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ۔۔ جب کمینے عروج پاتے ہیں/ اپنی اوقات بتادیتے ہیں
ویسے تو شاعری کی زیادہ شد بد نہیں، شعری اسرارو رموز، ردیف، قافیہ، تلفظ، تلازمہ، وزن، میٹر وغیرہ کی ککھ سمجھ نہیں ، لیکن بعض اوقات شاعر کے دو مصرے وہ کچھ کہہ جاتے ہیں جو نثر نگارکے دوسو صفحے بھی کہنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ "تولیہ والے" کی اگر نثر میں وضاحت دینا شروع کریں تو ہزار صفحات بھی کم پڑ جائیں ، لیکن شاعر نے کمال خوبصورتی سے دو مصرعوںمیں بات نمٹادی۔
بلاگ میں بات صرف صالح آصف کی اچیومنٹ پر کرنا تھی لیکن ہم جس طرح کے ماحول میں اپنی زندگیاں گذار رہے ہیں وہاں کسی ایک پوائنٹ پر فوکس کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
فوکس نوجوان کی " کرسر"والی کامیابی پر کرنا تھا مگر ذہن کے نہال خانوں سے وہ "تولیہ والی" وائرل ویڈیو نہیں نکل رہی ، اور پھر جب بات کراچی کی ہورہی ہو تو کراچی کی موہنجوداڑو یا جنگ زدہ بیروت جیسے حالات کسی فلم کے سین کی طرح چلنا شروع ہوجاتے ہیں ، کراچی رے کراچی تیری کون سی کل سیدھی ۔۔
کیا حال کردیا کراچی کا صرف 17 سالوں میں ۔۔ایسا حال تو 17 سالہ محمد بن قاسم نے اپنی منجینقوں سے راجہ داہر کے قلعے کا بھی نہیں کیا تھا ۔
کراچی آخری دفعہ مشرف دور میں گیا ،اس وقت سیاست سے دلچسپی نہیں تھی کیونکہ جس انٹرنیشنل ادارے کیلئے ڈاکومینٹریز بناتے تھے اسکا کام ماحولیات، جنگلات، وائلڈ لائف سے متعلق تھا ، تب کا کراچی تو اچھا خاصا تھا ، پھر کیا ہوا؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے فوکس کر رہا تھا کہ ٹکر چل گیا کہ حکومت نے پٹرول لیوی میں 26 روپے کا مزید اضافہ کردیا ، یعنی پٹرول مزید، مزید، مزید مہنگا ہوگیا
تین دفعہ" مزید" اسلئے کہا کہ ہر اہم کام کا آغاز اور انجام تین دفعہ کہنے سے ہوتا ہے مثال کے طور پر قبول ہے ، قبول ہے، قبول ہے اور طلاق، طلاق ، طلاق۔۔۔سارا فوکس سبزی ، دال، گوشت ، پٹرول کی قیمتوں اور اپنی جیب کی طرف ہوگیا ہے،
تیسری کہانی کسی اور وقت ۔۔!!





















