مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث دنیا بھر میں جیٹ فیول کی قلت کا خدشہ ہے۔ اگلے 2 ماہ کے دوران مسافر پروازیں گراؤنڈ ہوسکتی ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق بحران سے پہلے ایشیائی ممالک کےمتاثر ہونے کا امکان ہے، ایشیائی ممالک کے بعد یورپ کی باری آسکتی ہے، دونوں خطے جیٹ فیول کیلئے خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس اب صرف چھ ہفتوں تک ہوائی جہازوں کے ایندھن کا ذخیرہ موجود رہ گیا ہے اور اگر مشرقِ وسطیٰ سے درآمدات بحال نہ ہو سکیں تو جون تک صورتحال نازک ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ خلیج سے جیٹ فیول کی ترسیل کا اہم راستہ آبنائے ہرمز ایران کی جانب سے چھ ہفتوں سے بند ہےجس کے باعث قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا کہ اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو پروازوں کی منسوخی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر جیٹ فیول کی سب سے بڑی برآمد خلیجی ممالک سے ہوتی ہے جبکہ جنوبی کوریا، انڈیا اور چین جیسے ممالک کی ریفائنریاں بھی مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔ اس بحران نے ایوی ایشن فیول مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔




















