ٹرمپ انتظامیہ ایران سے مذاکرات کی خواہاں ہے جبکہ اہم تنصیبات پر حملے بھی جاری ہیں۔ زمینی آپریشن بھی زیر غور ہے۔
ایرانی سرکاری نیوزایجنسی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کا بوشہر میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر قریب حملہ کیا ہے، ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کی بھی حملے کی تصدیق کردی۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے میں ایٹمی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے خلاف سخت اقدامات زیر غور ہے، خارگ آئی لینڈ پر قبضہ ٹرمپ آپشن میں شامل ہے۔ امریکا نے 3ہزاراہلکار مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چھاتہ بردار فورس کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ زمینی آپریشن بھی پر غور جاری ہے،وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کی اولین ترجیح بمباری رکوانا ہے،امریکا مذاکرات کے ذریعے وہ مطالبات منوانا چاہتاہے، جو ایران پہلے مسترد کرتا رہا۔





















