قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں توانائی کی تنصیبات پر ایرانی حملوں کی ’سخت الفاظ‘ مذمت کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق یہ حملے ’بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ وزارت نے مزید کہا کہ ’پڑوسی ممالک کے خلاف ’ایرانی جارحیت‘ تمام ’ریڈ لائنز‘ عبور کر چکی ہے۔
اس سے قبل ایک مبینہ ایرانی میزائل حملے میں قطر کے راس لفان صنعتی علاقے کو نشانہ بنا چکا ہے۔ قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے تصدیق کی کہ جمعرات کی صبح سویرے اس کے مرکزی مقام پر گیس تنصیبات کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ لگ گئی اور زیادہ نقصان ہوا ہے، تاہم کسی کے زخمی ہونے یا جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔
قطر کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ راس لفان اینرجی کمپلیکس میں لگی آگ پر اب قابو پا لیا گیا ہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارت کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینرجی کمپلیکس پر جس مقام میں آگ لگی تھی وہاں کولنگ کا عمل جاری ہے اور خطرناک مواد کو ایک خصوصی یونٹ سنبھال رہا ہے۔
دوسری جانب قطر نے ایران کے خلاف بڑا سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے ایرانی سیکیورٹی و ملٹری اتاشی کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔ قطر نے اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ایران کے بار بار حملوں کے باعث کیا گیا۔
یاد رہے کہ راس لفان تنصیب پر جمعرات کی صبح سویرے ایرانی راکٹ حملہ کیا گیا تھا، جو اسرائیل کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے جواب میں تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر ٹروتھ سوشل پر طویل پوسٹ میں بیان دیا ہے کہ یہ جوابی کارروائی غیر منصفانہ اور بلاجواز تھی اور خبردار کیا کہ قطر جیسے ممالک پر مزید حملوں کی صورت میں امریکہ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ‘ کر دے گا۔
واضح رہے کہ ایران نے خبردار کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں متعدد آئل فیلڈز کو نشانہ بنائے گا اور گزشتہ چند روز کے دوران ایران میں توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔





















