سپریم کورٹ نے پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے ملازمین سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے ملازمین سول سرونٹس نہیں بلکہ پبلک سرونٹس ہیں اور ان کے سروس معاملات میں پنجاب سروس ٹریبونل کو اختیار حاصل نہیں۔
جسٹس عائشہ ملک کی جانب سے جاری فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے ملازمین سول سرونٹس کی تعریف میں نہیں آتے بلکہ ان کی حیثیت پبلک سرونٹس کی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں پنجاب سروس ٹریبونل کا حکمنامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کی اپیلیں منظور کر لیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو ملازمین کے سروس معاملات میں پنجاب سروس ٹریبونل کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق محض کسی ادارے کے سرکاری محکمہ بننے سے وہاں کام کرنے والے ملازمین خود بخود سول سرونٹ نہیں بن جاتے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے ملازمین علیحدہ قانونی فریم ورک اور رولز 2007 کے تحت ریگولیٹ ہوتے ہیں۔ریسکیو ڈرائیور محمد خلیل نے اپنے خلاف ہونے والی محکمانہ تادیبی کارروائیوں کو پنجاب سروس ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا جس پر ٹریبونل نے معاملے پر نئے سرے سے باقاعدہ انکوائری کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 26 فروری کو کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد اب تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔





















