امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ جیت چکے لیکن جلد نکلنا نہیں چاہتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پرمیڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ہم بہت اچھی صورتحال میں ہیں۔ ایران کی نیوی، فضائیہ اورکنٹرول سسٹمز تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور امریکا اب فری رینج کی طرح ایران میں کارروائی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اہم یہ ہے کہ جنگ جیتنی ہے، جلد اور فیصلہ کن جیت تاکہ ایران دوبارہ اپنی فوجی اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتیں حاصل نہ کر سکے۔ صڈر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ تہران یا دیگر علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتے ہیں، لیکن ایسا کرنے سے ملک کی دوبارہ تعمیر تقریباً ناممکن ہو جائے گی لہذا وہ فی الحال ایسا نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے کینٹکی میں اپنے خطاب میں سابق صدر براک اوباما اور جوبائیڈن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے انخلا امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ شرمناک دن تھا۔ بائیڈن انتہائی بیوقوف ہیں۔ اربوں ڈالر کے فوجی سامان کو پیچھے چھوڑ آئے۔ ہم کبھی بھی کوئی سامان پیچھے نہیں چھوڑتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 150 ملین ڈالر کا طیارہ، بس تھوڑا سا ایندھن بھرنا تھا اور اسے اڑا کر کہیں بھی لے جایا جا سکتا تھا۔ بگرام ایئر بیس پر اندھیری رات میں لائٹیں کھلی چھوڑ کر وہاں سے راہِ فرار اختیار کی۔ ہمیں بگرام کو اپنے پاس رکھنا چاہیے تھا کیونکہ وہ چین کے جوہری ٹھکانوں سے صرف ایک گھنٹے کی دوری پر ہے، ہمیں وقار اور طاقت کے ساتھ باہر نکلنا چاہیے تھا نہ کہ ایسے جیسے ہم کسی سے ڈر کر بھاگ رہے ہوں۔






















