امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کردی، حالیہ دنوں میں صرف چند درجن بارودی سرنگیں بچھائیں گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی 90 فیصد سرنگیں بچھانے والی کشتیاں محفوظ ہیں، ایران چاہے تو سیکڑوں مائنز بچھا سکتا ہے، امریکی سنٹرل کمانڈ نے 16 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز بند ہونے کے باوجود ایران چین کو تیل فراہم کررہا ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک چین کوایک کروڑ 17 لاکھ بیرل تیل بھیجا گیا، ایرانی تیل کی تجارت خلیج عمان کے راستے سے بھی جاری ہے۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا آئل ریزرو ریلیز کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی نے ممبر ممالک کو تجاویز پیش کردیں، مقدار2022 میں یوکرین جنگ کے بعد ریلیز کے گئے آئل ریزرو سے زیادہ ہوگی۔
چین کے برعکس ایران جنگ سے یورپ کو اربوں ڈالرکے خسارے کا سامنا ہے، صدر یورپی کمیشن کے مطابق 11 دن میں توانائی اخراجات میں ساڑھے 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، تیل کی قیمت میں 27 فیصد اور گیس کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔




















