سرائیکی زبان میں پُر اثر کلام وسیب کا بڑا نام شاکر شجاع آبادی کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نےشاکر شجاع آبادی کی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔
رپورٹس کے مطابق گورنر بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی میں اسپیشل کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا۔جس میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن نے خصوصی شرکت کی اور انہوں نے کہا کہ میں محمد شاکر شجاع آبادی آپکو آپکے اعلیٰ کام کی بدولت اعزازی ڈاکٹریٹ کی سند عطاء کرتا ہوں۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے جامعہ کے اس امر کو سراہتے ہوئے پاکستان میں اعزازی اسناد نواز نے کے رجحان کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
نامور شاعر کی حوصلہ افزائی پر شرکاء نے بھرپور داد دی اور کہا شاکر شجاع آبادی کے کلام میں صرف درد ہی نہیں بلکہ امید اور دعا کی تلقین بھی ہے
پروفیسر اطہر لاشاری نے کہا کہ شاکر شجاع آبادی بول نہیں سکتے، پر انکی آواز جہان سنتا ہوں، وہ چل نہیں سکتا مگر شاعری کی اڑن تشتری پر سوار ہو کر وہ کڑوروں دلوں میں محو پرواز رہتا ہے۔
پروفیسر آغا صدف کا کہنا تھا کہ شاکر شجاغ آبادی وسیب کا ایک ایسا نام ہیں جس پر کوئی دوسرا نام نہیں آسکتا، جامعہ نے جو انکو اعزازی ڈگری دی ہے وہ ہمارے لیے بھی بڑا اعزاز ہے۔






















