بلوچستان کے علاقے بولان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کا آخری مرحلہ جاری ہے، تمام دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے، خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا گیا، شہید مسافروں کی تعداد کا تعین کیا جارہا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معصوم جانیں بچانے کیلئے آپریشن میں احتیاط اور مہارت کا مظاہرہ کیا گیا۔
دہشتگردوں کےبولان پاس کےعلاقے میں جعفرایکسپریس پرحملہ میں سیکیورٹی فورسزکی جوابی کارروائی میں 30 دہشتگرد جہنم واصل،متعدد زخمی جبکہ 190مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا،انسانیت کےدشمنوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
ذرائع کےمطابق دہشتگردافغانستان میں ماسٹرمائنڈ اورسہولت کاروں سے رابطے میں ہیں،چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہوکرخودکش بمباروں نےتین جگہوں پرخواتین اوربچوں کویرغمال بناکرڈھال بنا لیا، آپریشن میں احتیاط برتی جارہی ہے،سیکیورٹی خدشات کےباعث تین دن تک کوئٹہ سےپشاورٹرین سروس معطل رہےگی،راولپنڈی اور کوئٹہ ریلوے اسٹیشنز پرمعلومات کیلئے ہیلپ ڈیسک قائم کردیا گیا۔
دہشتگردی کے پیش نظر جعفر ایکسپریس کی روانگی تین روز کے لئےمنسوخ کر دی گئی،ریلوےانتظامیہ کاکہنا ہےکہ جعفر ایکسپریس کی روانگی سیکورٹی وجوہات پر منسوخ کی گئی،ٹرین کی روانگی تین روز تک منسوخ کی گئی ہے۔
دہشتگردوں کا جعفر ایکسپریس پر حملہ، سیکیورٹی فورسز نے 104 مسافر رہا کروا لیئے
دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی سےمسلسل رابطے میں ہیں،وفاقی وزیرداخلہ نےبلوچستان حکومت سےمکمل یکجہتی کااظہار،ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
دونوں رہنماؤں نےدہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لانے کے عزم کااعادہ کیا،محسن نقوی نےکہا بلوچستان میں امن کیلئےصوبائی حکومت کو تعاون فراہم کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان دلیر آدمی ہیں اور ہم مل کر دہشتگردوں کا صفایا کریں گے،دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خاتمے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔
گزشتہ روز بلوچستان کےعلاقے بولان پاس میں دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو حملے کا نشانہ بنایا جس میں تین کمسن بچے شہید ہوئے،سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 104 یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کروا لیا۔





















