لاہور کے علاقے اچھرہ میں ماں کے ہاتھوں تین بچوں کے قتل کے افسوسناک واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،ملزمہ ردا سے جاری تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ملزمہ ردا نےدوران تفتیش انکشافات کیا کہ بچوں سےکھیلتے ہوئےباری باری قتل کیا،پہلے ڈیڑھ سالہ بچی کو بیڈ پرقتل کیا،پھربیٹے کو کمرے میں لے جا کر اسکی شہر رگ کاٹ دی،سب سے آخر میں بڑی بیٹی کو قتل کیا،ملزمہ نےتہرے قتل کے بعد کپڑے تبدیل کیے اورگھرکو تالالگاکرباہرچلی گئی،جائے وقوعہ سے دو چھریاں صوفہ کے پاس سے ملیں،ایک چھری دھو کر کچن میں رکھی گئی۔
ملزمہ نےدوران تفتیش اپنےشوہرپرسنگین الزامات عائدکرتےہوئےبتایا کہ اسکا شوہر اسے غیرمردوں سے فون پر بات کرنےاورپیسےمانگنے پرمجبورکرتا تھا،شوہرکارویہ پسند نہیں تھا اوروہ اس کےساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی۔
ردا نےیہ بھی انکشاف کیاکہ اس نے اپنے شوہر کےکہنے پرایک پیر سےبھی رابطہ کیاتھاجبکہ شہر یار نامی شخص سے رابطےکا بھی اس کے شوہر کو علم تھا۔
ملزمہ کےمطابق طلاق کےبعد بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا اور اس کے میکے والوں نے بھی بچوں کو رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔
پولیس کےمطابق ملزمہ کےشہر یار سے746 فون کالز کاریکارڈ ملا ہے،کیس کی تفتیش بحی سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی،سی سی ڈی ماڈل کیس کی مزید تحقیقات کرے گی۔






















