نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں محفوظ اور انہیں مساوی حقوق حاصل ہیں جس کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ میرے ایمان کا حصہ ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اسلام آباد میں کرسمس کے سلسلے میں ایک تقریب میں شرکت کی، کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مذہبی مقامات کا تحفظ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے، نبی کریم ﷺ نے نجران سے آنے والے عیسائی وفد کو بہت عزت دی۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم نے اپنے 11 اگست کے خطاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ غیرمسلم پاکستان کے شہری کی حیثیت سے اپنی عبادت گاہوں میں جاکر اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کرسکتے ہیں۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمدﷺ تک تمام پیغمبروں پر ایمان لانا ہمارے لئے لازمی ہے، قائداعظم ایک دور اندیش شخصیت تھے جنہیں مستقبل کا اندازہ تھا، قائداعظم نے ہندوتوا کی مذموم ذہنیت کا ادراک کیا اور ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کیلئے جدوجہد کی اور اپنا مقصد حاصل کرلیا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہے تاہم کسی کو شہریوں میں نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں مسیحی برادری کی شاندار خدمات کو سراہا۔





















