وزیراعظم شہباز شریف نے اوور انوائسنگ کے ذریعے اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف پر سخت ایکشن کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم نے ذمہ داروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی تیز کرنے کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر امور پر اہم اجلاس میں اوور انوائسنگ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2017 سے 2022 کے دوران اوور انوائسنگ کا مکروہ دھندا جاری رہا۔ متعلقہ ادارے اپنے فرائض سے مسلسل غافل رہے۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ اس دھندے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی تیز تر کی جائے اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے اور اس کا ایک ایک پائی کا حساب دینا ریاستی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی بنانے اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو مزید فعال کرنے اور اس میں ایف آئی اے اور انٹیلیجنس بیورو کے نمائندے شامل کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے سنٹرلائزڈ پرائس ویریفکیشن پورٹل بنا لیا ہے جو جون کے آخر تک بینکوں کے ساتھ منسلک ہو جائے گا۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اکتوبر 2022 میں پوسٹ کلیئرنگ آڈٹ ونگ نے اس اوور انوائسنگ کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد اب تک تیرہ ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں اور قانونی کارروائی جاری ہے۔




















