وفاقی آئینی عدالت نے باپ سے پہلے فوت ہونے والی بیٹی کے وراثتی حقوق بحال کر دیئے۔ عدالت نے عبداللہ خان کی وراثت کو دوبارہ تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ وراثت کے حق سے کسی کو محض تکنیکی بنیادوں پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے 8 اپریل کی سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ موجودہ کیس میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سردار بیگم، چوہدری عبداللہ اور فاطمہ بی بی کی بیٹی تھیں تاہم انہیں اور ان کے ورثا کو وراثت کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔
حکم نامے کے مطابق سردار بیگم کا انتقال 1957 میں جبکہ ان کے والد عبداللہ خان کا انتقال 1968 میں ہوا۔ وراثت کی تقسیم 1969 میں شروع ہوئی جو 1989 میں مکمل ہوئی۔ عدالت نے سردار بیگم کے بچوں کو مقدمے میں فریق بنانے کی استدعا بھی منظور کر لی۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے آئندہ سماعت پر معاونت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی۔






















