جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) اور جے یو آئی کے درمیان بڑے اختلاف تھے لیکن اب سیزفائر ہوگئے ہیں۔
کندھ کوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ہمارے بلوچستان میں بجلی کا نام نہیں ہے لیکن بل آرہے ہیں، قلات میں درجہ حرارت منفی 12 تک ہے لیکن وہاں گیس نہیں ہے، حکومت عوام سے ٹیکس لیتی ہے اس کا فرض ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرے۔
جے یو آئی رہنما کا کہنا تھا کہ بلوچستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ایک اور بنگلادیش نہ بن جائے، طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں، مذاکرات سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کے حوالے سے ہم صحافیوں کے ساتھ رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے اس قانون پرصدر اور وزیراعظم سے بات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں بدامنی کی ذمہ دار حکومت ہے اور حکومت اگر چند ڈاکوؤں کو قابو نہیں کر پا رہی تو ان سے حکومت کیسے چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ 2024 میں الیکشن نہیں ہوئے بلکہ نامزدگیاں ہوئی ہیں اور جو لوگ اس وقت اسمبلی میں ہیں اُن کو قانون کا پتہ نہیں ہے، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اداروں کی نجکاری کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان بڑے اختلاف تھے لیکن اب سیزفائر ہوگئے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کے مستقبل کا اللّٰہ تعالیٰ کو پتہ ہے۔






















