پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور چیف آف آرمی اسٹاف ( سی او اے ایس ) جنرل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
پیر کے روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی اور صوبے کے سیکیورٹی امور پر گفتگو کی جبکہ اس موقع پر ان کی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے بھی ملاقات ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اس ملاقات کی تردید کی گئی تاہم جمعرات کے روز انہوں نے آرمی چیف سے ملنے کا اعتراف کیا اور اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی کا اہم بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے ملاقات کو ’ خوش آئند ‘ قرار دیا۔
آرمی چیف اور بیرسٹر گوہر کے درمیان ملاقات کے بعد مختلف دعوے سامنے آئے جن میں ملاقات کو سیاسی قرار دیا گیا۔
تاہم، سیکیورٹی ذرائع نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ملاقات میں صوبے کی سیکیورٹی اور انسداد دہشتگردی امور پر گفتگو کی گئی اور ملاقات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ‘۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر نے سیاسی معاملات پر بات کرنے کی کوشش کی جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ’ سیاسی معاملات پر گفتگو سیاستدانوں سے کریں ‘۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی معاملات پر بات چیت کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔
بیرسٹر گوہر کی گفتگو
اس سے قبل بیرسٹر گوہر نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ’ میری اور علی امین گنڈا پور کی ملاقات آرمی چیف سےعلیحدگی میں ہوئی جس میں ہم نے اپنے تمام مسائل آرمی چیف کے سامنے رکھے جبکہ ملاقات میں دوسری طرف سے بھی مثبت جواب ملا ہے‘۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’ ملاقات میں ملکی استحکام کے حوالے سے تمام امور پر بات ہوئی، امید ہے اب صورت حال بہتر ہوجائے گی ‘۔






















