ہر سال کی طرح 2024 بھی تلخ و شیریں یادوں کے ساتھ اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے،رواں سال عام انتخابات اور سیاسی ہلہ گلہ کے باعث عدالتی محاذ بھی سرگرم رہا ۔
رواں سال پشاور ہائی کورٹ میں کل 26 ہزار 48 سے زائد نئے مقدمات دائر ہوئے،جبکہ عدالت نے 28 ہزار 655 سے زائد درخواستوں کو نمٹایا،سال کے آغاز پر پشاور ہائی کورٹ میں زیرالتوا کیسز کی تعداد 41 ہزار 941 تھی جو اب کم ہو کر 38 ہزار 16 تک ہو گئی ہے۔
آئینی مقدمات میں پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان بلے کو بحال کیا،تو وہی پانچ رکنی لاجر بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشسیوں کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا۔۔ جبکہ صوبائی اسمبلی سینٹ انتخابات میں مخصوص نشستوں کی حلف برادری کا فیصلہ بھی کیا۔۔
پشاور ہائی کورٹ کےسیکرٹری جنرل کےمطابق ایک ہزار راہداری اور حفاظتی ضمانیتں منظورہوئی،جس میں وزیراعلی علی امین گنڈا پور،بشری بی بی سمیت تحریک انصاف کے ممبران قومی،صوبائی اسمبلی اور رہنماوں شامل ہیں، وکلا نے 2024 کو سیاسی مقدمات کا سال قرار دے دیا۔۔
پشاورہائی کورٹ میں کل ججز کی آسامیوں کو 20 سے بڑھا کر تیس تو کردیا گیا ہے۔۔ لیکن نئے ججز کی تعیناتی نہ ہو سکی،حاضر سروس ججز کی تعدار چودہ ہی رہی۔۔ لیکن چیف جسٹس ابراہیم خان کی رٹئائرمنٹ کے بعد اب ججز کی تعداد تیرہ رہ گئی ہے
وکلا نے پشاورہائی کورٹ میں مزید ججز کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا تاکہ زیرالتوا مقدمات کو جلد نمٹایا جا سکے






















