خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں قبائلی جھگڑے کے بعد حالات معمول پر نہ آسکے جبکہ پشاور روڈ کی 70 روز سے بندش کے باعث علاقے میں خوراک سمیت ادویات کی قلت شدت اختیار کرگئی۔
کرم میں قبائلی جھگڑے کے بعد حالات تاحال خراب ہے اور ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ( ڈی ایچ کیو ) کے مطابق ادویات نہ ملنے کے باعث اب تک 29 بچوں سمیت 54 افراد دم توڑ گئے ہیں جبکہ علاقے میں خوراک اور ادویات سمیت پیٹرول کی شدید قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔
تعلیمی اداروں کے سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا صوبائی وزیر ہشام خان اور بیرسٹر سیف علاقے کی صورتحال کو غلط بیان کر رہے ہیں، حکومت کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے یہاں کے عوام بھوک اور علاج نہ ملنے سے مررہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کی نااہلی کے خلاف جمعہ سے غیر معینہ مدت تک کے لیے احتجاجاً تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور اگر مسائل فوی حل نہ ہوئے تو دھرنوں کا آغاز بھی کیا جائے گا۔






















