وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد میں پرتشدد احتجاج کے دوران گرفتار افراد کی رہائی کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھ دیا۔
علی امین گنڈاپور نے گرفتار افراد کو بےگناہ قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنے کی اپیل کردی۔ وزیراعلیٰ نے خط میں نسلی امتیاز اور بلاجواز گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
حط کے متن کے مطابق اسلام آباد میں پشتونوں کو تنگ کیا جارہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہری اسلام آباد میں محنت مزدوری کررہے ہیں۔ نفرت کو ہوا دینے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے معاملات مذکرات کے ساتھ حل ہوسکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے درج مقدمات کو بھی بوگس قرار دیا۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خط میں گزشتہ ماہ ہونے والے گرینڈ قبائلی جرگے اور قیام امن کیلئے صوبائی حکومت کے وفاقی وزیرداخلہ کے ساتھ تعاون کا بھی تذکرہ کیا۔
یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ’فرار‘ ہوگئے تھے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس نے پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں تقریباً ایک ہزار 400 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور پولیس نے احتجاج میں ملوث افراد کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے ہیں۔






















