چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے گلگت بلتستان کےآٹھ حلقوں میں جیت کا دعویٰ کر دیاہے اور کہا کہ ووٹ جمہوریت کی اکائی ہے ، عوام نےجس کو مینڈیٹ دیا ہے حق حکمرانی اسی کے پاس ہونا چاہیے ۔
تفصیلات کے مطابق بیرسٹر گوہر کا کہناتھا کہ پاور شیئرنگ پر یقین نہیں رکھتے ، وفاق میں اپنا مینڈیٹ چوری کرنیوالوں کے ساتھ گلگت میں حکومت کیوں بنائیں ، ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں مگرغدار قرار دینا ناقابل برداشت ہے ، بانی سے ملاقاتوں پر پابندی فوری ختم کی جائے۔ہم نے افواج کی قربانیوں اور کردار کو ہمیشہ سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں کسی خاص شخصیت کی ملاقات جھوٹی خبرہے،سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کی کال حقوق کیلئے دی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کال کی ہم حمایت کرتےہیں، خیبرپختونخوا کو این ایف سی کے مطابق اسکا شیئر ملنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر کا کہناتھا کہ میں نے سنا ہے بجٹ اجلاس 12 جون کو ہو گا سمری بھیجی گئی ہے، ہماری پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی بجٹ کو کیسے ڈیل کرنا ہے، ہم بجٹ اجلاس میں شامل ہوں نہ ہوں یہ وقت عوام کوریلیف دینے کا ہے، لوگ یوٹیلیٹی بلز اور پیٹرول کے پیسے ادا نہیں کرپا رہے، بجٹ آئینی اور قانونی معاملہ ہے۔
ان کا کہناتھا کہ وزیراعلیٰ کے پی کی پچھلی بار بھی بانی سے ملاقات نہیں کروائی گئی،سہیل آفریدی بجٹ پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کریں گے،ہماری کوشش ہے بجٹ سے قبل وزیراعلی کے پی کی بانی سے ملاقات ہو جائے، سہیل آفریدی اکتوبر میں وزیراعلیٰ بنے آج تک ایک ملاقات نہیں ہونےدی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری ملاقاتیں 34 ہفتوں سےبند ہیں،کیا تاریخ میں کسی قیدی کو34 ہفتے ملاقاتوں سے محروم رکھا گیا ہوگا، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بانی کی ملاقاتیں بحال ہونی چاہیے، ملاقاتوں پر پابندیوں نے نفرت کو جنم دیا ہے، ہم سےبھی غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن یہ کہا جائے آپ غدار ہیں یہ ناقابل برداشت ہے۔
بیرسٹرگوہرنے کہا کہ 6 ماہ سے ہمیں نہیں معلوم بانی کن حالات میں ہیں،بانی سابق وزیراعظم ہیں مقبول لیڈرہیں آئین وقانون کے مطابق ملاقات انکا حق ہے، ایک بات کلیئر کر رہا ہوں پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ جمہوریت کی بنیادی اکائی ہے، گلگت بلتستان میں ہمارے 22 امیدوار میدان میں تھے، پوری جمع تفریق کے بعد ہم 15 نشستوں پر جیتے ہیں، ہمیں 2 نشستیں دیکر ہماری 13سیٹیں کسی اور کو دینگے تو ہم اسے نہیں مانتے،عوام نے جس کو مینڈیٹ دیا ہے حق حکمرانی اسی کے پاس ہونا چاہیے۔





















